ایک مرتبہ حضرت عیسٰیؑ جنگل جا رہے تھے کہ ان کے
ساتھ بھی چل دیا۔ جنگل میں ایک جگہ ہڈیوں کا ڈھیر پڑا دیکھ کر رک گیا اور حضرت
عیسٰیؑ سے کہنے لگا:
"اے روح اللُٰہ، وہ کیا اسم اعظم ہو جسے
پڑھ کرآپ مُردوں کر زندہ فرماتے ہیں! پجھے بھی اسمِ اعظم سکھا دیجئے تاکہ میں بھی
ان بوسیدہ ہڈےوں میں جان ڈال دوں؟"
اس احمق کی یہ بات سُن کر آپؑ نے کہا:
"خاموشی ہو جا تیری زبان اس اسم کے لائق
نہیں۔"
اتنے میں پھر اس احمق نے ہڈیوں پر اسم پڑھ کر دم
کرنے کا تقاضا کر دیا اور جب آپؑ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو ناراض ہو کر بولا
"اے روح اللُٰہ اب آپؑ بھی اپنا معجزہ دکھانے میں بخل سے کام لینے لگے شاید
آپؑ کی زبان مبارک میں پہلی تاثیر نا رہی ہو گی"
یہ سن
کر حضرت عیسٰیؑ نے اسم پڑھ کر ہڈیوں پر دم

0 Comments