ایک لاکھ چالیس ہزار نو سو ننانوے علوم ۔۔۔۔۔۔۔



حضرت سیدنا علی خواصؒ فرماتے ہیں کہ:-
"بے شک اللّٰہ نے مجھے سورۃ الفاتحہ کے معانی پر آگاہ فرمایا تو ان میں سے ایک لاکھ چالیس ہزار نو سو ننانوے علوم مجھ پر منکشف ہوئے۔"

اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

حضرت قتادہ محدثؒ کیوں لاجواب ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔



حضرت قتادہ محدث ؒ جو نہایت ہی بلند پایہ عالم اور جامع العلوم علامہ تھے۔ با لخصوص علم حدیث اور تفسیر میں تو اپنا مثل نہیں رکھتے تھے۔ کوفہ تشریف لائے تو ان کی زیارت کے لئے ایک عظیم الشان مجمع جمع ہو گیا۔ آپ نے تقریر فرمتے ہوئے حا ضرین سے کئی بار فرمایا کہ:-
"مجھ سے جو چاہو پوچھ لو۔"
مگر جب آپ ؒ نے بار بار للکارا تو حضرت امام اعظم ابو حنیفہ ؒ جو ابھی بہت کم عمر تھے خود تو کمال ادب سے کچھ نا بولے مگر آپ ؒ نے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ حضرت قتادہ ؒ سے یہ پوچھئے کہ وادئ نمل میں جو چیونٹی کی تقریر سن کر حضرت سلیمان ؑ مسکرا کر ہنس پڑے تھے وہ چیونٹی ہر تھی یا مادہ! چنانچہ جب لوگوں نے یہ سوال کیا تو حضرت قتادہ ؒ ایسے سٹپٹائے کہ بلکل لاجواب ہو کر خاموش ہو گئے۔

اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

زمین بات چیت کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔



قیامت کے دن بندوں کی نیکی بدی کے حساب کے وقت جہاں بہت سے گواہ ہوں گے وہاں زمین بھی گواہ بن کر شہادت دے گی۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ
"ہر مرد اور عورت نے زمین پر جو کچھ اچھا یا بُرا عمل کیا ہے زمین اس کی گواہی دے گی کہے گی کہ فلاں روز یہ کام کیا اور فلاں روز یہ کام کیا۔"

اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب بندے اور بڑے درجات والے کون ہیں ۔۔۔۔۔۔۔



حدیث پاک ہے کہ:-
"جو تم سے تعلق کاٹے تم اس سے میل ملاپ رکھو اور جو تم پر ظلم کرے اس کو معاف کر دیا کرو اور جو تمہارے ساتھ بد سلوکی کرے تم اس کے ساتھ احسان اور اچھا سلوک کرو۔"
ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ:-
"وَالٌعَافِیٌنَ عَنِ النَّاسِ"
یعنی لوگوں کی خطاؤں کو معاف کر دینے والے اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب بندے اور بڑے درجات والے ہیں۔

اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

آصف بن برخیارضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کون تھے ۔۔۔۔۔۔۔



آصف بن برخیارضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ وہ تھے جو اسمِ اعظم جانتے تھے اور ایک باکرامت ولی تھے۔ انہوں نے حضرت سلیمانؑ سے عرض کیا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ:-
"اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کر دوں گا ایک پل مارنے سے پہلے۔"
چنانچہ حضرت آصف بن برخیانے روحانی قوت سے بلقیس کے تخت کو ملک سبا سے بیت المقدس تک حضرت سلیمانؑ کے محل میں کھینچ لایا اور وہ تخت زمین کے نیچے نیچے چل کر لمحہ بھر میں ایک دم حضرت سلیمانؑ کی کرسی کے قریب نمودار ہو گیا۔

اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

منہ کی پاکیزگی اور اللّٰہ تعالیٰ کی خوشنودی کا سبب ۔۔۔۔۔۔۔



حضرت سیدنا ابو امامہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی مکرم، نورِمجسم، رسول اکرم، شہنشاہ بنی آدمﷺ کا فرمانِ برکت ہے کہ:-
"مسواک منہ کی پاکیزگی اور اللّٰہ تعالیٰ کی خوشنودی کا سبب ہے۔"

اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

قرآن مجید کی آیت ہر مرض کی مکمل دوا اور مجرب علاج ۔۔۔۔۔۔۔



جس شخص کے جسم کے جس حصّے میں درد یا کوئی بیماری ہے تو اُس حصّے 
پر ہاتھ رکھ کر

"وَبِالٌحَقِّ اَنٌزِلٌنٰہُ وَبِالٌحَقِّ نَزَلَ"
پڑھ کر دم کر لے تو درد یا بیماری دور ہو جاتی ہے۔ لیکن شرط یہ کہ پڑھنے والا پابند شریعت اور صدق مقال و رزق حلال پر کاربند ہو۔ بلاشبہ یہ آیت شفاء امراض کے لئے قرآن مجید کے عجائب میں سے ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

سلامتی سے جنت میں داخلہ ۔۔۔۔۔۔۔


       حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ، میں نے عرض کی، یا رسول اللّٰہﷺ جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل باغ باغ ہو جاتا ہے اور آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔ (آقا) مجھے ہر چیز کی معلومات عطا فرما دیجئے! اِرشاد ہوا:
"ہر شے پانی سے بنی ہے۔"
میں نے عرض کی: اس چیز پر مطلع فرما دیجئے جسے اپنا کر میں جنت کو پا سکوں۔ فرمایا:
"کھانا کھلاؤ اور اسلام کو پھیلاؤ اور صلئہ رحمی کرو اور رات میں (نفلی) نماز پڑھو جب لوگ سوئے ہوں، تم سلامتی سے داخلِ جنت ہو جاؤ گے۔"

اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

خضر کے معنی کیا ہیں اور حضرت خضر ؑ کون تھے ۔۔۔۔۔۔۔


حضرت خضرؑ کی کنیت ابوالعباس اور نام "بلیا" اور ان کے والد کا نام "ملکان" ہے۔ "بلیا" سریانی زبان کا لفظ ہے۔ عربی زبان میں اس کا ترجمہ "احمد" ہے۔ "خضر" ان کا لقب ہے اور اس لفظ کو تین طرح سے پڑھ سکتے ہیں۔
 خَضِر، خَضْر، خِضْر۔
 "خضر" کے معنی سبز چیز کے ہیں۔ یہ جہاں بیٹھتے تھے وہاں آپؑ کی برکت سے ہری ہری گھاس اُگ جاتی تھی اس لئے لوگ ان کو "خضر" کہنے لگے۔

اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


آپ ﷺ کا فرمان، قوی اور بہادُر شخص وہ ہے۔۔۔۔۔۔۔



رسول اللُٰہﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا کی رو بڑا قوی اور بہادُر ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:
"کیسے؟"
لاگاں نے عرض کیا:
"اس لئے کہ وہ ہر شخص پر غالب آ جاتا ہے جس کے ساتھ کُشتی لڑتا ہے۔"
آپﷺ نے فرمایا:
"قوی اور بہادُر شخص وہ ہے جو اپنے نفس کو مغلوب کرے نہ کہ جو دوسروں کو پچھاڑ دے۔"

اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


سرخ کپڑے اور فریادی اور انصاف۔۔۔۔۔۔۔



ایک زاہد کسی خلیفہ کے سامنے پیش ہوا اور اس نے کہا:
"مجھے نصیحت کیجئے۔"
وہ بولا:
"امیرالمومنین میں نے چین کا سفر کیا۔ وہاں کا بادشاہ بہرا ہو گیا تھا۔ میں نے اسے روتے ہوے کہتے سنا بخدا میں اپنے بہرے ہونے پر نہیں روتا میں تو اس لئے روتا ہوں کر مظلوم میرے دروازے پر فریادی بن کر آئے گا اور میں اس کی فریاد نہ سُن سکوں گا۔ مگر خدا کا شُکرہے کہ میری بنائی سالم ہے۔"
اس نے منادی کو حکم دے دیا تھا کہ جا بھی مظلوم ہو سُرخ کپڑے پہن لے پھر وہ ہاتھی پر سوار ہو کر نکلتا جو شخص سُرخ کپڑے پہنے ہوتا اُسے بلاتا اور اس کی فریاد سنتا۔

اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


جنت کا سودا بغیر مشقت کے نہیں۔۔۔۔۔۔۔




حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا ایک غلام بیت المال کا نگران تھا۔ آپ کی چند بیٹیاں تھیں۔ وہ عرفہ کے دن آئیں اور کہنے لگیں:
"کل عید ہے۔ رعیت کی عرتیں اور لڑکیاں ہمیں ملامت کریں گی۔ کہیں تم امیرُالمومنین کی بیٹیاں ہو ننگی پھرتی ہو۔ تمہیں اُجلے کپڑے بھی نہیں ملے ہیں۔"
وہ آپ کے سامنے رونے لگیں آپ نے غلام کو بلایا اور کہا:
"مجھے صرف ایک ماہ کی تنخواہ دے دے۔"
غلام نی کہا:
"امیرالمومنین! آپ بیت المال سے اُدھار لیں گے۔ کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ ایک ماہ تک زندہ رہیں گے؟"
عمر بن ابدالعزیز حیران رہ گئے اور کہنے

جنت کا سودا بغیر مشقت کے نہیں۔۔۔۔۔۔۔

جنت کا سودا بغیر مشقت کے نہیں۔۔۔۔۔۔۔
لگے:
"اے غلام! تو نے سچ کہا، اللُٰہ تجھے برکت دے۔"
پھر لڑکیوں کی طرف متوجہ ہوے اور کہنے لگے:
"اپنی خواہشات میں ضبط کرو کیونکہ جنت میں کوئی بغیر مشقت کے داخل نہیں ہو سکتا۔"


اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

انبیا ؑ کی توہین اور اسکی سزا۔۔۔۔۔۔۔

انبیا ؑ کی توہین اور اسکی سزا۔۔۔۔۔۔۔
کر دیا آن کی آن میں ان ہڈیوں کے اندر حرکت ہوئی اور ایک ہیبت ناک شکل کا قری الحبثہ شیر بن اٹھا۔ اس نے گرج کی جست کی اور اس بے وقوف شخص کو لمحہ بھر میں چیر بھاڑ کر برابر کر دیا یہاں تک کہ اس کی کھوپڑی بھی پاش پاش کر ڈالی۔
حضرت عیسٰیؑ نے تماشا دیکھ کر شیر سے پوچھا "اے جنگل کے درندے تو نے اس شخص کو اتنی جلدی کیوں چیر پھاڑ ڈالا؟" شیر نے جواب دیا "اس وجہ سے کہ احمق نے آپؑ کو خفا کر دیا تھا اور آپؑ کی توہین پر اُتر ایا تھا۔"
حضرت عیسٰیؑ نے پوچھا "تو نے اس شخص کا گوشت کیوں نا کھایا اور خون کیوں نا پیا؟" شیر نے کہا "اے پیغمبرخدا، میری قسمت میں اب رزق نہیں ہے اگر اس جہان میں میرا رزق باقی ہوتا تو مجھے مُردوں میں داخل ہی کیوں کیا جاتا۔ "


اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

انبیا ؑ کی توہین اور اسکی سزا۔۔۔۔۔۔۔


ایک مرتبہ حضرت عیسٰیؑ جنگل جا رہے تھے کہ ان کے ساتھ بھی چل دیا۔ جنگل میں ایک جگہ ہڈیوں کا ڈھیر پڑا دیکھ کر رک گیا اور حضرت عیسٰیؑ سے کہنے لگا:
"اے روح اللُٰہ، وہ کیا اسم اعظم ہو جسے پڑھ کرآپ مُردوں کر زندہ فرماتے ہیں! پجھے بھی اسمِ اعظم سکھا دیجئے تاکہ میں بھی ان بوسیدہ ہڈےوں میں جان ڈال دوں؟"
اس احمق کی یہ بات سُن کر آپؑ نے کہا:
"خاموشی ہو جا تیری زبان اس اسم کے لائق نہیں۔"
اتنے میں پھر اس احمق نے ہڈیوں پر اسم پڑھ کر دم کرنے کا تقاضا کر دیا اور جب آپؑ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو ناراض ہو کر بولا "اے روح اللُٰہ اب آپؑ بھی اپنا معجزہ دکھانے میں بخل سے کام لینے لگے شاید آپؑ کی زبان مبارک میں پہلی تاثیر نا رہی ہو گی"
یہ سن کر حضرت عیسٰیؑ نے اسم پڑھ کر ہڈیوں پر دم

حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کس درخت سے تیار کی-------


اللُٰہ تعالیٰ نے آپؑ کو حُکم دیا کہ ایک کشتی تیار کرو چنانچہ ایک سو برس میں آپؑ کے لگائے ہوے ساگوان کے درخت تیار ہو گئے اور آپ  ع نے ان درختوں کی لکڑیوں سے ایک کشتی بنائی جو 80 گز لمبی اور 50 گز چوڑی تھی اور اس میں 3 درجے تھے۔ یہ کشتی ایک سو برس میں تیار ہوئی۔ 

جب ایک عقاب آپؐ کے موزہ پر جھپٹا۔۔۔۔۔۔۔


ایک بار رسول اکرمﷺ وضو سے فارغ ہونے کے بعد موزہ پہننے لگے کہ ایک عقاب جھپٹا اور موزہ اُٹھا کر ہوا میں بلند ہو گیا۔ جونہی اس نے موزے کو اُلٹایا تو اس میں سے ایک کالا سانپ نکل کر زمین پر گِر پڑا پھر وہ عقاب موزے کو واپس لایا اور آپﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور اس گستاخی کی معافی مانگی۔

جب سانپ اور بچھو نے کہا کہ ہم اس شخس کو ضرر نہیں پہنچائیں گے۔۔۔۔۔۔۔


جب حضرت نوع علیہ السلام نے اللُٰہ کے حکم سے کشتی بنائی اور حشراتُ الا 
رض کا ایک ایک جاڑا سوار کرا دیا تو روایت ہے کہ جب سانپ اور بچھو کشتی میں سوار ہونے لگے تو آپ نے ان دونوں کو روک دیا تو ان دونوں نے کہا کہ اے اللُٰہ کے نبی علیہ السلام  آپ ہم دونوں کو سوار کر لیجئے ہم عہد کرتے ہیں کہ جا 
شخس



پڑھ لے گا ہم دونوں اسکو ضرر نہیں پہنچائیں گے تو آپؑ نے ان دانوں کو بھی 
کشتی میں بٹھا لیا۔