ایک زاہد کسی خلیفہ کے سامنے پیش ہوا اور اس نے
کہا:
"مجھے نصیحت کیجئے۔"
وہ بولا:
"امیرالمومنین میں نے چین کا سفر کیا۔ وہاں
کا بادشاہ بہرا ہو گیا تھا۔ میں نے اسے روتے ہوے کہتے سنا بخدا میں اپنے بہرے ہونے
پر نہیں روتا میں تو اس لئے روتا ہوں کر مظلوم میرے دروازے پر فریادی بن کر آئے گا
اور میں اس کی فریاد نہ سُن سکوں گا۔ مگر خدا کا شُکرہے کہ میری بنائی سالم
ہے۔"
اس نے منادی کو حکم دے دیا تھا کہ جا بھی مظلوم
ہو سُرخ کپڑے پہن لے پھر وہ ہاتھی پر سوار ہو کر نکلتا جو شخص سُرخ کپڑے پہنے ہوتا
اُسے بلاتا اور اس کی فریاد سنتا۔
اللّٰہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور آپﷺ کی پوری پوری پیروی کرنے کی
توفیق عطا فرمائے آمین

0 Comments